What does true repentance mean?

کفر اور شرک کے علاوہ جتنے کبیرہ گناہ ہیں وہ سب توبہ سے معاف ہو سکتے ہیں بشرطیکہ توبہ سچی توبہ ہو۔ سچی توبہ کا مطلب یہ ہے کہ دل سے پشیمانی ہو، اس گناہ کو فوراً ترک کر دیا جائے اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو اور اگر اس گناہ کی وجہ سے کسی کی حق تلفی ہوئی ہو تو اس کی ادائیگی یا تلافی کی کوشش شروع کردی جائے۔ یعنی اگر حقوق اللّٰہ (نماز ،روزہ ،زکٰوۃ ،حج وغیرہ) ذمہ پر ہیں تو انہیں ادا کرنا شروع کر دے اور اگر حقوق العباد میں کوتاہی کی ہو تو صاحبِ حق کو اس کا حق ادا کرے یا اس سے معاف کروا لے۔ بندے کا حق اس کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہو سکتا، حقوق العباد سے متعلق گناہوں سے توبہ کی تکمیل کے لیے یہ ضروری شرط ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، وہ کسی کو بےشمار گناہوں کے باوجود بھی معاف کر کے جنت میں داخل کر سکتا ہے اور اس میں وہ حق بجانب ہو گا، تاہم یہ بھی ملحوظ رہے کہ رحمت اور معافی کی امید پر گناہوں میں مبتلا ہونا عقل مندی نہیں بلکہ حماقت ہے۔ حدیث پاک میں ایسے شخص کو بےوقوف کہا گیا ہے جو خواہشِ نفس کی پیروی کرے اور اللّٰہ تعالیٰ سے امیدیں اور آرزو لگائے رکھے کہ وہ کریم ہے معاف کر دے گا جبکہ عقل مند اس شخص کو قرار دیا گیا ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور آخرت کی تیاری کرے۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ جس کام سے اللّٰہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ نے ناراضی کا اظہار فرما دیا، اس کام کے قریب بھی نہ جائے۔
Previous
Next Post »